خضدار ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ اسپتال بنیادی سہولیات سے محروم، ادویہ میسر نہ ڈاکٹر اور عملہ حاضر، ایمرجنسی وارڈ میں بھی مریض بے یارو مدد گار

خضدار(قدرت روزنامہ)خضدارڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ اسپتال جو پورے ضلع کے غریب بے سہارا اور بیمار لوگوں کی امیدوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے آج خود بے بسی کی زندہ تصویر بنا ہوا ہے، اسپتال کے سب سے حساس شعبے ایمرجنسی وارڈ میں نہ تو مناسب روشنی کا انتظام ہے، نہ ہی زندگی بچانے والی بنیادی ادویات دستیاب ہیں، ضلعی ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ اسپتال کا درجہ رکھنے کے باوجود یہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، رات کے اوقات میں جب کوئی مریض شدید تکلیف کی حالت میں اسپتال لایا جاتا ہے تو اس کے لواحقین علاج سے زیادہ سہولیات کی عدم دستیابی پر پریشان نظر آتے ہیں، کہیں بجلی نہ ہونے سے اندھیرا، کہیں ادویات کی قلت تو کہیں ڈاکٹروں اور عملے کی غیر موجودگی، عوام کا اسپتال سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک بیمار انسان جب اسپتال کا رخ کرتا ہے تو وہ سیاسی بیانات، دعوے یا کاغذی کارروائی نہیں دیکھتا اسے صرف بروقت دوائی، توجہ اور علاج کی ضرورت ہے، اگر یہی بنیادی چیزیں میسر نہ ہوں تو پھر ایک بڑے سرکاری اسپتال اور کسی ویران عمارت میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے۔ مریضوں کے لواحقین نے مبینہ طور پر شکایت کی کہ اکثر اوقات انجکشن، ڈرپس اور ابتدائی طبی امداد کے لیے بھی باہر میڈیکل اسٹورز کا رخ کرنا پڑتا ہے، رات کے وقت ایمرجنسی وارڈ میں متبادل روشنی کا کوئی بندوبست نہ ہونے سے مریضوں کا معائنہ تک ممکن نہیں رہتا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے افسران صرف فائلوں اور اجلاسوں تک محدود ہیں، زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی تلخ اور تکلیف دہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام اچانک دورے کریں خاص طور پر رات کے اوقات میں ایمرجنسی کی حقیقی صورتحال کا خود جائزہ لیں۔ عوامی و سیاسی حلقوں نے وزیر صحت بلوچستان، سیکرٹری ہیلتھ اور کمشنر قلات ڈویژن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ اسپتال خضدار کی خستہ حالی کا فوری نوٹس لیا جائے، ایمرجنسی وارڈ میں ادویات، روشنی اور تربیت یافتہ عملے کی 24 گھنٹے دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
