جماعت اسلامی احتجاج مؤخر کردے، خوامخواہ خود کو مشقت میں نہ ڈالیں، رانا ثناءاللہ کا مشورہ


لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کو خوامخواہ خود کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور اپنے احتجاج کا سلسلہ مؤخر کر دینا چاہیے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے، ان کے دھرنے اور ریلیاں آئین و قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں، حکومت نے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں ان کے تمام مطالبات غور سے سنے ہیں، جہاں وزیراعظم نے بجلی، لوڈشیڈنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جیسے اہم عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔
حکومت گرانے کے اعلانات پر خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ایک امیدوار کا کہنا تھا کہ ہم اسلام آباد آئیں گے اور حکومت گرائیں گے، اگر حکومت گرانا ہی اصل مقصد بن جائے تو وہاں تشدد کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے لہذا جماعت اسلامی کے دوستوں کو مشورہ ہے کہ وہ خود کو مشقت میں ڈالنے سے گریز کریں۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی مشیر نے انکشاف کیا کہ آج گورنرہاؤس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہوئی ہے، جس میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیوں اور اختلافات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی تاکہ سیاسی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے چلنے والی بحث پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ بحث درست فورم سے شروع نہیں کی گئی تھی کیونکہ اس قسم کے معاملات کا آغاز ہمیشہ پارلیمنٹ سے ہونا چاہیے، نئے صوبے بننے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ صرف اور صرف پارلیمنٹ کرے گی، اگر عوام کی حقیقی خواہش ہو تو نئے صوبے بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا، اور پارلیمنٹ میں ہونے والے فیصلے کو تمام سیاسی جماعتیں تسلیم کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے یا خود سے کسی ریفرنڈم کا فیصلہ نہیں کرسکتی، صوبے بنیں گے یا نہیں، یہ پیشگی کہنا دراصل پارلیمنٹ کے مجاز فورم کو ڈکٹیٹ کرنے کے مترادف ہے، تمام آراء سامنے آنے کے بعد حتمی رائے پارلیمنٹ ہی دے گی، جب کہ پنجاب حکومت کا صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا سنجیدہ ارادہ ہے، اور اس حوالے سے تمام تر قانونی و انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert