عہدوں کی ہوس اور عمر کی زیادتی کے باعث امان اللہ کنرانی کا سیاسی سفر تضادات کا مجموعہ بن چکا ہے: بابر یوسفزئی
مشرف کو خفیہ ووٹ دینے کا ریکارڈ مانگا گیا تو سامنے لے آئیں گے، اصولوں کے دعویدار نگران دور کی سرکاری گاڑی کا حساب دیں: معاون برائے داخلہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سابقہ صوبائی نگران وزیر امان اللہ کنرانی کی جانب سے سینیٹر انوارالحق کاکڑ پر کی جانے والی تنقید پر معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے شدید ردعمل دیتے ھوئے کہا کہ عمر کی زیادتی اور عہدوں کی حوس کی وجہ سے امان اللہ کنرانی عمر کے اس حصے میں بھیکی بھیکی باتیں کرنے لگے ھیں سمجھ میں نہیں آتا کہ امان اللہ کنرانی صاحب آخر چاہتے کیا ہیں؟ کبھی وہ قوم پرست، کبھی سیکولر اور کبھی آزادی پسند بن جاتے ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ اور نظریاتی مؤقف میں یہ تضادات آخر کس مقصد کے لیے ہیں؟
نواب اکبر بگٹی کی قربت سے لے کر جنرل پرویز مشرف کو خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ دینے تک، بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے یہ پہلو عوام سے پوشیدہ نہیں۔ اگر ضرورت پیش آئی یا متعلقہ شواہد طلب کیے گئے تو خفیہ رائے شماری سے متعلق ریکارڈ بھی سامنے لایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کے عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ کنرانی صاحب ماضی میں کن اداروں اور سیاسی حلقوں سے وابستہ رہے اور کن مراحل سے گزرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سینیٹر اور نگران وزیر جیسے عہدوں تک پہنچے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ دوسروں کے مؤقف پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے سیاسی سفر اور نظریاتی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالیں۔
کبھی نواب اکبر بگٹی سے قربت کا حوالہ، کبھی آزادی پسندی کا دعویٰ، اور کبھی اپنی سابقہ جماعت جماعتِ اسلامی کے نظریاتی فلسفے کی یاد؛ آخر کنرانی صاحب کس نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں؟ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کے سیاسی مؤقف میں اس تضاد کے بارے میں سوال کریں۔
اور اگر کوئی شخص خود کو انقلابی اور نظریاتی سیاست کا علمبردار سمجھتا ہے تو اسے اپنے طرزِ عمل میں بھی اصولی مؤقف کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ نگران دور میں فراہم کی گئی سرکاری گاڑی کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اسی تناظر میں اٹھائے جا سکتے ہیں؛ اصولوں کی بات کرنے والوں کو اپنے طرزِ عمل میں بھی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
جہاں تک انوار الحق کاکڑ کے انٹرویو کا تعلق ہے، کسی بھی شہری کو جمہوری معاشرے میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور تاریخی واقعات پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ امان اللہ کنرانی صاحب کو ان کی رائے سے اختلاف ہے تو وہ دلائل اور شواہد کے ساتھ جواب دیں۔ اختلافِ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے شخص کو اپنی سوچ کے مطابق چلنے پر مجبور کیا جائے یا اس پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کی جائے۔
جمہوریت میں کسی کو اختلافِ رائے سے روکنا نہیں، بلکہ اختلاف کا جواب دلیل سے دینا اصل سیاسی شعور ہے۔
امان اللہ کنرانی صاحب کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے مؤقف پر تنقید ضرور کریں، لیکن اپنے سیاسی سفر، نظریاتی تبدیلیوں اور ماضی کے فیصلوں سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے لیے بھی تیار رہیں۔ انوار الحق کالڑ گزشتہ 20 سال سے ایک ہی نظریے کے علمبردار ھیں اور انہوں نے ہمیشہ کھل کر دہشتگردوں کو دہشتگرد کہا ھے نا انوارالحق کاکڑ کا نظریہ بدلا نا ان کی سوچ ، بلوچستان کے عوام باشعور ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ اصولوں کی سیاست کون کرتا ہے اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے ساتھ مؤقف کون بدلتا ہے۔
بابر یوسفزئی معاون برائے داخلہ بلوچستان
