بھولا ہوا بٹوا کریڈٹ کارڈ کی ایجاد کا سبب کیسے بنا؟ دلچسپ تاریخ سامنے آگئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)کریڈٹ کارڈ کی ایجاد کے پیچھے ایک دلچسپ واقعہ چھپا ہے، جس کے مطابق ایک امریکی کاروباری شخصیت ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد بل ادا کرنے کے وقت اپنا بٹوا گھر بھول جانے پر پریشان ہوگئی۔ اس واقعے نے اسے نقد رقم کے بغیر ادائیگی کا متبادل تلاش کرنے کی ترغیب دی، جس سے کریڈٹ کارڈ کے تصور کو فروغ ملا۔
آج کریڈٹ کارڈ جدید زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ لوگ ان کے ذریعے خریداری کرتے ہیں، ریستورانوں میں بل ادا کرتے ہیں اور مختلف خدمات کے اخراجات پورے کرتے ہیں، جبکہ بڑی مقدار میں نقد رقم ساتھ رکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ تاہم، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ادائیگی کے اس جدید طریقے کی تاریخ ایک بھولے ہوئے بٹوے سے جوڑی جاتی ہے۔
بٹوا بھولنے کا واقعہ
یہ واقعہ 1949 کا بتایا جاتا ہے، جب نیویارک کے کاروباری شخص فرینک میک نامارا نے اپنے چند کاروباری ساتھیوں اور گاہکوں کو ایک ریستوران میں عشائیے پر مدعو کیا۔
کھانا کھانے کے بعد جب بل ادا کرنے کا وقت آیا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنا بٹوا گھر بھول آئے ہیں۔ اس صورت حال میں انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور مبینہ طور پر انہوں نے بل ادا کرنے کے لیے اپنی اہلیہ کو رقم لے کر آنے کے لیے فون کیا۔
اس تجربے نے میک نامارا کو سوچنے پر مجبور کیا کہ ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے لوگ نقد رقم کے بغیر ریستورانوں اور دیگر مقامات پر ادائیگی کرسکیں اور بعد میں اپنے اخراجات ادا کردیں۔
ڈائنرز کلب کارڈ کی پیدائش
فرینک میک نامارا نے اپنے کاروباری ساتھی رالف شنائیڈر کے ساتھ مل کر اس خیال کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں نے 1950 میں ڈائنرز کلب کارڈ متعارف کرایا، جس کے ذریعے ابتدا میں نیویارک کے 27 ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ادائیگی کی سہولت فراہم کی گئی۔
یہ کارڈ آج کے عام کریڈٹ کارڈز سے مختلف تھا۔ اسے چارج کارڈ کہا جاتا تھا، جس میں صارفین کو عموماً ہر ماہ اپنے واجب الادا بل کی پوری رقم ادا کرنا ہوتی تھی۔ اس کے برعکس جدید کریڈٹ کارڈز میں شرائط کے مطابق رقم کا کچھ حصہ بعد میں ادا کرنے اور باقی رقم پر سود لاگو ہونے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔
ڈائنرز کلب کارڈ کا تصور بالخصوص کاروباری افراد اور اکثر ریستورانوں میں کھانا کھانے والے صارفین میں مقبول ہونے لگا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک سال کے اندر اس کارڈ کے صارفین کی تعداد تقریباً 20 ہزار تک پہنچ گئی، جس سے نقد رقم کے متبادل ادائیگی کے طریقے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ ہوا۔
بینکوں کی کریڈٹ کارڈ مارکیٹ میں آمد
ڈائنرز کلب کی کامیابی کے بعد بینکوں نے بھی کارڈ کے ذریعے ادائیگی کے نظام میں دلچسپی لینا شروع کردی۔
1958 میں بینک آف امریکا نے بینک امریکا کارڈ متعارف کرایا، جسے جدید کریڈٹ کارڈز کی ترقی میں ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے اہل صارفین کو مقررہ شرائط کے تحت قرض کی سہولت فراہم کی گئی، جس سے وہ اپنی واجب الادا رقم کا کچھ حصہ آگے منتقل کرسکتے تھے۔
بعد ازاں بینک امریکا کارڈ کا نام تبدیل کرکے ویزا رکھ دیا گیا، جبکہ ویزا کا نام باضابطہ طور پر 1976 میں اختیار کیا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ کریڈٹ کارڈز کا استعمال ہوٹلوں اور ریستورانوں سے نکل کر عام خریداری، سفر، آن لائن لین دین اور روزمرہ کے دیگر اخراجات تک پھیل گیا۔
مقناطیسی پٹی سے ڈیجیٹل والٹ تک کا سفر
ٹیکنالوجی میں ترقی نے کریڈٹ کارڈز کے استعمال اور ادائیگی کے طریقوں کو بھی تبدیل کردیا۔ ابتدائی دور میں ادائیگیوں کے لیے دستی طریقہ کار استعمال ہوتا تھا، جس کے بعد مقناطیسی پٹی والے کارڈ متعارف ہوئے۔
بعد ازاں زیادہ محفوظ ادائیگیوں کے لیے چِپ والے کارڈز سامنے آئے، جبکہ کانٹیکٹ لیس ٹیکنالوجی نے کارڈ کو مشین سے چھوئے بغیر یا قریب لاکر ادائیگی ممکن بنا دی۔
اب صارفین اپنے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے بھی کارڈ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح بہت سے معاملات میں جسمانی کارڈ ساتھ رکھنے کی ضرورت بھی کم ہوگئی ہے۔
ایک معمولی واقعہ، جس نے ادائیگیوں کا انداز بدل دیا
کریڈٹ کارڈ کی تاریخ سے وابستہ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ روزمرہ زندگی کی ایک معمولی پریشانی بھی کسی بڑے خیال کو جنم دے سکتی ہے۔ ریستوران میں بل ادا نہ کرپانے کی صورت حال سے شروع ہونے والا یہ تصور وقت کے ساتھ دنیا بھر میں نقد رقم کے بغیر ادائیگی کے نظام کی ترقی کا حصہ بن گیا۔
آج کریڈٹ کارڈز عالمی تجارت اور مالیاتی لین دین میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ تاہم، ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے اخراجات پر نظر رکھیں، بل مقررہ وقت پر ادا کریں اور اپنی مالی استطاعت کے مطابق کارڈ استعمال کریں تاکہ اضافی سود، تاخیر کے جرمانوں اور قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے بچا جاسکے۔
