پی ٹی آئی میں 25 سالوں سے موجود اختلافات اب عداوتیں بن چکی ہیں، شیر افضل خان مروت
اب عمران خان بھی باہر آکر پی ٹی آئی کو متحد نہیں کرسکتے، ارکان اسمبلی کے مطابق مذاکرات علی امین کے ذریعے ہوں گے،یہ سہیل آفریدی کی معذول حکومت پر عدم اعتماد ہے، رکن اسمبلی کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سیاسی رہنماء رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں 25سالوں سے موجود اختلافات اب عداوتیں بن چکی ہیں، اب عمران خان بھی باہر آکر پی ٹی آئی کو متحد نہیں کرسکتے۔ اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں 25سالوں میں جو اختلافات ہیں کبھی ختم نہیں ہوئے، عمران خان بھی باہر آکر پی ٹی آئی کو متحد نہیں کرسکتے، بیرسٹر گوہر کے بیانات کہ ہم کھڑے ہیں ، وہ بس کھڑے ہی ہیں، لیکن باقی پارٹی کا اسٹرکچر ، تنظیم آج سے نہیں ،پی ٹی آئی میں 25سالوں میں جو اختلافات ہیں کبھی ختم نہیں ہوئے۔
اب اختلافات پارٹی میں عداوتیں بن چکی ہیں، اس عداوتوں کو عمران خان بھی ختم نہیں کرسکتے ، پارٹی کے اندر گروپنگ اور تقسیم کا عمران خان نے کبھی برا نہیں منایا ، اگر موجودہ حالات میں پارٹی کی قیادت معاملہ فہم لوگوں کو سونپی جاتی تو زمینی حقائق سے آگاہ تھے۔
پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ نقصان آپس کی تقسیم نے پہنچایا ہے، اب مخالفین کچھ کریں یا نہ کریں ، آج ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ کوئی ایک بھی شخصیت پی ٹی آئی کو متحد نہیں کرسکتی۔
ہر کسی لیڈر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم کسی نہ کسی کی ایماء پر کی جاتی ہے۔سیکرٹری جنرل بیٹھ کر کہتا ہے کہ یہ سانپ اور سنپولیئے ہیں، وہ پوری اسمبلی کو سانپ سنپولیئے کی تشبیہ کس حیثیت میں دے رہے ہیں؟اس پر ردعمل تو آنا ہی تھا۔
"پی ٹی آئی میں 25، 30 سالوں سے اختلافات کبھی ختم ہی نہیں ہوئے، بانی پی ٹی آئی بھی پارٹی کو متحد نہیں کر سکتے،" شیر افضل مروت کا بڑا بیان
#ARYNews #OnMyRadar https://t.co/GKmZ9MmRAq
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) October 23, 2026
پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی دو سالوں سے تکالیف اٹھارہے ہیں، کاروبار بند ہیں، عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا حوصلہ اور قربانی مانگتا ہے، کوئی میرٹ کوئی معیار نہیں کہ وزیرمشیر کس نے لگنا ہے؟چھ سات لوگ ہیں وہی عمران خان سے ملتے اور فیصلہ سازی کرکے فیصلے تھوپ دیتے ہیں۔
ارکان اسمبلی نے ایک پیغام دیا ہے کہ آئندہ اپنے فیصلے خود کریں گے، کیونکہ ان کے فیصلوں نے ورکرز کو پارٹی سے نکال دیا ہے، اب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مذاکرات علی امین کے ذریعے ہوں گے۔یہ سہیل آفریدی کی معذول حکومت اور غلط فیصلے کرنے والی پارٹی قیادت پر عدم اعتماد ہے۔وہ دن دور نہیں کہ جب پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت آکر کہے گی فلاں فلاں یوٹیوبرز سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور کوئی تعلق تھا تو ہم ختم کررہے ہیں۔
