مونس الٰہی کا پنجاب میں گندم کی تاریخ کی سب سے بڑی مبینہ ڈکیتی کا الزام

لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء مونس الٰہی نے پنجاب میں گندم کی سرکاری خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی سنسنی خیز اور ریکارڈ کرپشن کا معمہ سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پنجاب میں گندم کی خریداری کے معاملے پر صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی گندم ڈکیتی قرار دیا ہے، انہوں نے حکومتِ پنجاب کے خلاف اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے سرکاری شفافیت اور انتظامی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے۔
مونس الٰہی کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں 25 لاکھ ٹن گندم کی سرکاری خریداری کا بڑا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات کے مطابق محض 1 لاکھ 60 ہزار ٹن گندم کی خریداری ہی سامنے آ سکی ہے، باقی ماندہ 23 لاکھ 40 ہزار ٹن گندم کا ریکارڈ کہاں غائب ہو گیا اور یہ گندم آخر کہاں چلی گئی؟۔
پنجاب میں گندم کی تاریخ کی سب سے بڑی مبینہ ڈکیتی! 25 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف، ریکارڈ میں صرف 1 لاکھ 60 ہزار ٹن! باقی 23 لاکھ 40 ہزار ٹن کہاں گئے؟ 11 پٹواری نواز نجی کمپنیوں کا حساب کون دے گا؟ غریب روٹی کو ترس رہا ہے اور پٹواری سرکار جواب دینے سے بھاگ رہی ہے!
— Moonis Elahi (@MoonisElahi) October 25, 2026
انہوں نے الزامات عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سنگین بے ضابطگی میں ملوث ان 11 پٹواری نواز نجی کمپنیوں اور بااثر شخصیات کا حساب آخر کون دے گا؟ ایک طرف صوبے کا غریب اور عام شہری روٹی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے شدید پریشان ہے جبکہ دوسری جانب پٹواری سرکار اس اتنی بڑی مالی بے ضابطگی کا جواب دینے اور عوام کا سامنا کرنے سے مسلسل بھاگ رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماء نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی خریداری اور ریکارڈ کی اس مبینہ گڑبڑ کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ عوام کے سامنے سچ آ سکے، غریب عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے ان عناصر اور نجی کمپنیوں کو بے نقاب کر کے قانون کی گرفت میں لایا جائے کیونکہ گندم کا بحران اور یہ مبینہ کرپشن براہ راست عوامی زندگیوں اور خوراک کی سکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔
