بیرسٹر گوہر خان کی طرف سے علی امین گنڈا پور کے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطوں کی تردید

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کے کوئی رابطے ہیں، حکومت کے ساتھ جو مذاکرات ہونے تھے وہ بہت ہوچکے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک سہیل آفریدی کا تعلق ہے وہ جہاں پر بھی ہیں ان کو لایا جائے، سہیل آفریدی آج بھی وزیراعلیٰ ہے وہ کل بھی وزیراعلیٰ تھے وہ آئندہ بھی ہمارا وزیراعلیٰ رہے گا ۔
اگر کسی کے ذہن میں کوئی خدشہ ہے تو اپنے ذہنوں نے نکال دے، اگر ضرورت پڑی تو میں پارٹی پلیٹ فارم سے چیئرمین پی ٹی آئی کی حیثیت سے اس کا نوٹیفکیشن بھی کر دوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی ہمارا وزیراعلیٰ تھا، وزیراعلیٰ ہے اور وزیرِاعلیٰ رہے گا، اُسے تبدیل کرنے کا کوئی سوچے ہی نہ، یہ اختیار صرف اور صرف عمران خان کا ہے۔
سہیل آفریدی ہمارا وزیراعلیٰ تھا، وزیراعلیٰ ہے اور وزیرِاعلیٰ رہے گا، اُسے تبدیل کرنے کا کوئی سوچے ہی نہ، یہ اختیار صرف اور صرف عمران خان کا ہے، اگر کسی کے ذہن میں کوئی خدشہ ہے تو میں بطور چیئرمین پی ٹی آئی اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دوں گا، بیرسٹر گوہر علی خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) October 26, 2026
علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی وفاقی حکومت کے ساتھ ہمارے کسی قسم کے کوئی رابطے ہیں، حکومت کے جو مذاکرات کرنے تھے وہ بہت کچھ کرلیا، مذاکرات ہونے چاہئیں، لیکن کچھ حاصل ہونا چاہئے، صرف فوٹو سیشن کی حد تک مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، باقاعدہ اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخواہ میں سیاسی ڈیڈ لاک، صوبائی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے وفاق سے رابطے بحال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کے وفاقی حکومت کے ساتھ منقطع شدہ رابطے دوبارہ بحال ہوئے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد دونوں اطراف سے تمام رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے تھے، تاہم اب پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کی ہدایت اور فیصلے پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر وفاق کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بحال کرلیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ 20 اکتوبر کو منعقد ہونے والے خیبر پختونخواہ کی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں علی امین گنڈاپور کو وفاق سے باضابطہ مذاکرات اور رابطوں کا مکمل مینڈیٹ تفویض کیا گیا تھا، خیبر پختونخواہ کی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حق میں ہے، جس کے بعد گورنر راج سے قبل وفاق کی مذاکراتی ٹیم میں شامل 2 اہم وفاقی وزراء سے ابتدائی بات چیت کی گئی۔
