آئی فون ڈوؤ کی اسکرین ٹوٹنے کا مسئلہ: ایپل نے اعتراف کر لیا، متاثرہ فون تبدیل کیے جائیں گے

کیوپرٹینو(قدرت روزنامہ)ایپل نے پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے پہلے فولڈ ہونے والے فون آئی فون ڈوؤ کے کچھ یونٹس کی اندرونی اسکرین میں خرابی سامنے آئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جن صارفین کے فون کی اسکرین میں مسئلہ پیدا ہو، وہ ایپل کیئر سے رابطہ کریں جہاں ان کا فون تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 23 اکتوبر کو عالمی فروخت شروع ہونے کے چند ہی دن بعد دنیا کے مختلف ممالک سے صارفین نے سوشل میڈیا اور ریڈٹ جیسے فورمز پر شکایت کی کہ ان کے فون کی اندرونی اسکرین ہنج کی لکیر کے ساتھ ساتھ ٹوٹ رہی ہے۔
کئی صارفین نے اسکرین پر درمیان سے دائیں جانب جاتی ایک روشن لکیر کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
اسی دوران ایپل نے آئی او ایس 27.2 اپ ڈیٹ بھی جاری کر دی ہے، جس کے ذریعے آئی فون ڈوؤ کو ایپل پنسل کی سپورٹ اور ویڈیو کالز کے لیے ایک نیا فیچر مل گیا ہے۔
یوں ایپل کے پہلے فولڈ ایبل فون کے لیے یہ ہفتہ ملی جلی خبریں لے کر آیا ہے۔

ایپل نے اپنے بیان میں کیا کہا
ایپل نے 9 ٹو 5 میک، بلومبرگ اور دی ورج کو جاری کیے گئے بیان میں کہا: “آئی فون ڈوؤ کے بارے میں ابتدائی صارفین کا ردعمل نہایت مثبت رہا ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈویلپرز اس کے منفرد ڈیزائن سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے اپنی ایپس اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔
ہم آئی فون ڈوؤ کے کچھ یونٹس کی اندرونی اسکرین کو متاثر کرنے والے ایک مسئلے سے آگاہ ہیں۔ اگر صارفین کو اپنے آئی فون ڈوؤ کی اسکرین میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ تبدیلی کے لیے ایپل کیئر سے رابطہ کریں۔”
کمپنی کے ترجمان کے مطابق زیادہ تر یونٹس اس خرابی سے محفوظ ہیں، اور جن فونز میں یہ نقص موجود ہے ان میں یہ استعمال شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد ظاہر ہو جاتا ہے۔
تاہم ایپل نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے فون متاثر ہوئے ہیں، خرابی کی اصل وجہ کیا ہے اور کیا کمپنی تیاری کے عمل میں کوئی تبدیلی کر رہی ہے۔

صارفین کو کیا مسئلہ پیش آیا
شکایات کا انداز تقریباً ایک جیسا ہے۔ صارفین کے مطابق فون کا ہنج کچھ سخت محسوس ہونے لگتا ہے اور پھر فون کھولتے وقت اندرونی اسکرین درمیان سے چٹخ جاتی ہے، جس کے بعد اسکرین پر روشن لکیریں نمودار ہو جاتی ہیں۔ بعض صارفین نے فون کھولتے وقت چٹخنے جیسی آواز آنے کی بھی شکایت کی۔
آسٹریلیا کے ایک صارف کے مطابق اس کی اسکرین 20 سے بھی کم بار کھولنے کے بعد ٹوٹ گئی، جس پر ایپل اسٹور نے اسے اسی وقت نیا فون دے دیا۔
دوسری جانب یہ مسئلہ کتنا وسیع ہے، اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بی بی سی اور 9 ٹو 5 میک دونوں نے نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی تصاویر ہیں، اگرچہ کئی شکایات حقیقی بھی ہیں۔
مرمت کی معروف ویب سائٹ آئی فکس اٹ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں فون کا ٹیئر ڈاؤن شائع کیا تھا، جس میں اس نے خیال ظاہر کیا کہ فولڈ ہونے والی اسکرین اندر موجود ایک مرکزی پٹی پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور کچھ پرزے اسکرین پر ضرورت سے زیادہ زور ڈال رہے ہیں۔ یہ آئی فکس اٹ کا اندازہ ہے اور ایپل نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
متاثرہ صارفین کو کیا کرنا چاہیے
9 ٹو 5 میک کے مطابق اس مسئلے کی وجہ سے فون تبدیل کروانے کے لیے ایپل کیئر پلس کا ہونا ضروری نہیں۔
جن صارفین نے فون کسی موبائل نیٹ ورک کمپنی کے ذریعے خریدا ہے، انہیں بھی نیٹ ورک کمپنی کے بجائے براہ راست ایپل کیئر سے رابطہ کرنا ہوگا۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ عام حالات میں یہ اسکرین ٹھیک کروانا بہت مہنگا ہے۔ امریکا میں وارنٹی کے بغیر آئی فون ڈوؤ کی اندرونی اسکرین کی مرمت پر 999 ڈالر خرچ آتے ہیں، جبکہ ایپل کیئر پلس کے ساتھ یہی کام 99 ڈالر میں ہوتا ہے۔
فولڈ ایبل فونز کی پرانی مشکل
فولڈ ہونے والی اسکرینز کی پائیداری پوری صنعت کا مسئلہ رہی ہے۔ 2019 میں سام سنگ کے پہلے گلیکسی فولڈ کو بھی ابتدا میں ایسی ہی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب جائزہ لینے والوں کے پاس موجود کئی فونز کی اسکرینز خراب ہو گئی تھیں۔ ایپل نے برسوں کی تیاری کے بعد اس مارکیٹ میں قدم رکھا اور آئی فون ڈوؤ کو کھلی حالت میں اب تک کا سب سے پتلا آئی فون اور دیرپا ہنج والا فون قرار دیا تھا۔
یہ صورت حال ایپل کے لیے اس لیے بھی غیر آرام دہ ہے کہ آئی فون ڈوؤ ستمبر میں ٹم کک کی جگہ سنبھالنے والے نئے سی ای او جان ٹرنس کے دور کی پہلی بڑی پروڈکٹس میں شامل ہے۔ اینڈرائیڈ اتھارٹی کے مطابق ٹرنس نے حال ہی میں ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ابتدائی فولڈ ایبل فونز کو سستے اور ناقص قرار دیا تھا۔

آئی او ایس 27.2: ایپل پنسل اور ایج لائٹ
ایپل نے پیر کے روز آئی او ایس 27.2 جاری کیا، جو ستمبر میں آنے والے آئی او ایس 27 کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ ہے۔ آئی فون ڈوؤ کے لیے اس کی سب سے نمایاں تبدیلی ایپل پنسل کی سپورٹ ہے، جس کے بارے میں ایپل پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ یہ “اس سال کے آخر تک” آ جائے گی۔ اس کے ساتھ ایج لائٹ نامی فیچر بھی شامل کیا گیا ہے جو ویڈیو کالز کے دوران صارف کے چہرے کو روشن رکھتا ہے۔
اپ ڈیٹ کے بعد سری اے آئی پچھلی گفتگو یاد رکھ سکتی ہے اور پیغامات میں بھیجی گئی تصاویر، کیلنڈر کے شرکاء، وائس میلز اور سفاری ہسٹری سے بھی معلومات لے سکتی ہے۔ سری اے آئی اب فرانسیسی، جاپانی، کورین، پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں میں بھی دستیاب ہے، تاہم یہ یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں۔
اس اپ ڈیٹ میں 160 سے زائد سیکیورٹی خامیاں بھی دور کی گئی ہیں، اس لیے تمام صارفین کو اسے جلد انسٹال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اپ ڈیٹ سیٹنگز میں جنرل اور پھر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے
پاکستان میں آئی فون ڈوؤ عالمی لانچ کے دن ہی ایپل کی مجاز ڈسٹری بیوٹر مرکنٹائل کے ذریعے فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، جہاں اس کی سرکاری قیمت 8 لاکھ 99 ہزار 999 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ مرکنٹائل کے فروخت کردہ یونٹس پی ٹی اے سے منظور شدہ ہیں اور ان کے ساتھ ایپل کی ایک سال کی آفیشل وارنٹی دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں ایپل کا کوئی اپنا اسٹور نہیں اور ایپل نے یہ واضح نہیں کیا کہ مختلف ممالک میں فون تبدیل کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ اس لیے جن پاکستانی صارفین کی اسکرین میں ایسی لکیریں یا دراڑ نظر آئے، انہیں چاہیے کہ فون کو مزید استعمال کرنے کے بجائے خریداری کی رسید کے ساتھ فوری طور پر ایپل سپورٹ یا اپنے مجاز فروخت کنندہ سے رابطہ کریں۔ نیا فون خریدنے والے صارفین کو بھی چاہیے کہ خریداری کے وقت فون کو چند بار کھول کر اندرونی اسکرین اچھی طرح دیکھ لیں۔
