سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ، صارفین کو روزانہ کتنے گھنٹے گیس ملنے کا امکان؟

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک بھر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے واضح فرق کے باعث گھریلو صارفین کو شدید گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کیمطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارتِ پٹرولیم نے سردیوں کے موسم میں گیس کی کیٹیگری وائز فراہمی اور مینجمنٹ سے متعلق اپنا بنیادی ہوم ورک مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد جلد ہی اس تیار کردہ پلان سے متعلق وزیراعظم کو باضابطہ پریزنٹیشن دی جائے گی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ تیار کردہ مجوزہ شیڈول کے تحت گھریلو صارفین کو 24 گھنٹوں کے دوران صرف 8 گھنٹے گیس فراہم کی جائے گی ، اس پلان کے مطابق گیس کی فراہمی صرف ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے مخصوص اوقات میں یقینی بنائی جائے گی، جبکہ باقی اوقات میں سپلائی معطل یا شدید متاثر رہنے کا امکان ہے۔
اس مجوزہ شیڈول کے عملی نفاذ کے لیے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اپنے اپنے دائرہ کار اور علاقوں میں الگ الگ تفصیلی شیڈول جاری کریں گی تاکہ صارفین کو اوقاتِ کار سے آگاہ رکھا جا سکے۔
دستیاب سرکاری اور تکنیکی اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ایس این جی پی ایل (SNGPL) اپنے گھریلو صارفین کو یومیہ 487 ملین مکعب فٹ گیس فراہم کر رہی ہے، جبکہ سوئی سدرن (SSGC) کے نیٹ ورک پر گھریلو صارفین کو یومیہ 286 ملین مکعب فٹ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
سردیوں میں طلب میں ملٹی فولڈ اضافے کے باعث دونوں کمپنیوں کی جانب سے سپلائی کا یہ خلا مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سردیوں میں پائپ لائن گیس کی فراہمی محدود ہونے کے خدشات کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن یعنی ایل پی جی (LPG) کی قیمتوں میں بھی متوقع اضافے کا معاملہ عام صارفین کے لیے شدید تشویش اور بوجھ کا باعث بن سکتا ہے تاہم، وزارتِ پٹرولیم یا حکومتی سطح پر گیس فراہمی کے اس مجوزہ 8 گھنٹے کے شیڈول کی حتمی منظوری اور اس پر عمل درآمد سے متعلق باقاعدہ سرکاری اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
