ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے بات چیت کی جائے، بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت کو مشورہ

لاڑکانہ (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات ختم کرکے معاشی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے تمام سیاسی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی جائے۔ اگر ہم پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان سے لڑتے رہیں گے تو معاشی ترقی کب کریں گے؟
لاڑکانہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بہت مثبت رہی اور وفاق کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی گئی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سابق وزیر خارجہ کی حیثیت سے وفاقی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ اختلافات ختم کرکے ملک کی معاشی صورتحال پر توجہ دی جائے۔ حکومت کی توجہ سیاسی اختلافات کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے چاہییں اور ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
’وزیراعظم سے ملاقات مثبت رہی، وفاق کے ساتھ رابطہ کاری بہتر ہوگی‘
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی ملاقات بہت مثبت رہی، جس کے نتیجے میں وفاق کے ساتھ رابطہ کاری میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی ہے اور چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر عوام کے لیے کام کیا جائے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو وفاقی کابینہ کے اجلاس مختلف صوبوں میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ وفاق اور سندھ کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے کراچی میں بھی اجلاس ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ حکومت اسپتالوں کی ذمہ داری زیادہ بہتر انداز میں نبھا رہی ہے، تاہم لاڑکانہ کے اسپتال کی تعمیر میں وفاقی حکومت کی کوئی معاونت شامل نہیں ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق کافی عرصے سے سندھ میں وفاقی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا آسان اور کام کرنا مشکل ہے۔ کچھ لوگ سیمینار سیمینار کھیل رہے ہیں، آپ بھی سیمینار رکھ لیں، میں آ جاؤں گا۔
لاڑکانہ میں 600 بستروں کا نیا اسپتال
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کافی عرصے بعد لاڑکانہ آنے کا موقع ملا ہے۔ جب پہلی مرتبہ لاڑکانہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوا تو معلوم ہوا کہ چانڈکا اسپتال کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کے پرانے اسپتال کے لیے مریضوں کا مزید بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا تھا، جبکہ بلوچستان سے بھی لوگ علاج کے لیے لاڑکانہ آتے ہیں۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاڑکانہ شہر کو نیا اسپتال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 600 بستروں پر مشتمل نیا اسپتال لاڑکانہ کے شایان شان ہوگا اور یہاں عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا بھر میں معاشی بحران ہے اور پاکستان کے عوام بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر سندھ بھر میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے کوئی شخص علاج کی سہولت سے محروم نہ رہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ پیسے نہ ہونے کے باعث کسی شہری کو علاج سے محروم ہونا پڑے۔
سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم پر 45 ارب روپے خرچ کررہی ہے
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ حکومت پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو زیادہ معاونت فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پورے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم پر 60 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ سندھ حکومت اکیلے یونیورسٹیوں کو 45 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق گزشتہ روز لاڑکانہ یونیورسٹی کا افتتاح کیا گیا، تاہم حکومتی معاونت کے باوجود تعلیمی اداروں کو مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ تعلیمی اداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے اور مستقبل میں ان اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔
لاڑکانہ میں پانی کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاڑکانہ میں پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی آب کے منصوبے دیے تھے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ لاڑکانہ شہر میں پانی کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات دور کی جا سکیں۔
جنگ کا معاشی بوجھ امریکا سے لاڑکانہ تک عوام اٹھا رہے ہیں
عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امریکا کے عوام نے جنگ کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ جنگ کا معاشی بوجھ امریکا سے لے کر لاڑکانہ تک کے عوام اپنے کندھوں پر اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات ختم نہیں ہوں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
