پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست نہ چھوڑی تو عمران خان جیل میں رہنے کا ریکارڈ توڑ دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

کراچی (قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے انتہا پسندی کی سیاست ترک نہ کی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان خود پی ٹی آئی کو ہی ہو رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں بلدیہ ٹاؤن کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کچھ عناصر شہر کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر انہیں مجرم بنانا چاہتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی اس کے برعکس نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم دینا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نوجوانوں کو میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے، نہ کہ جرائم میں ملوث ہوتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوانوں کو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک سہولت فراہم کی گئی ہے۔

گورنر راج ’آخری آپشن‘ قرار
بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج ایک قانونی اور آئینی آپشن ہے اور چند روز قبل صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی سیاست کا نقصان پورے ملک کو ہو رہا ہے اور اس کی مثال خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ن لیگ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہیں کی اور ہماری یہ تجویز مانی کہ گورنر راج یا ایمرجنسی آخری آپشن ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا آپشن استعمال کیا جائے۔

اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ معاہدہ ہو چکا تھا
پی پی پی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا چکا تھا اور فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے بھی ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے مذاکرات کو ناکام کیوں بنایا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا کردار ملک اور صوبے کی بہتری کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام میں حمایت حاصل ہے، لیکن وہ انتہا پسندی کی سیاست کی وجہ سے یہ حمایت کھو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لڑائی سیاسی جماعتوں، عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ، سب کے ساتھ ہے اور یہی کردار پارٹی کا وفاقی سطح پر رہا، اب یہی روش صوبائی سطح پر بھی اپنائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے مذاکرات کی سیاست چھوڑ کر منفی سیاست کا راستہ اپنا لیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ منفی سیاست ترک کرے تاکہ اپنی صوبائی حکومت بچا سکے، کیونکہ ان کے بقول پارٹی کا کردار شہر اور وفاق کی سطح پر پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص ہیں تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست ترک کر دینی چاہیے، کیونکہ پی ٹی آئی کا تنازع وفاق سمیت ہر سطح پر موجود ہے۔

کمیٹیوں میں واپس آئیں، بات چیت کریں
بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو مذاکراتی عمل میں واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کمیٹیوں میں واپس آتی ہے اور بات چیت کرتی ہے تو معاملات بہتری کی جانب جا سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی ضد برقرار رہی تو پی ٹی آئی کا کردار صوبائی سیاست میں بھی باقی نہیں رہے گا۔

عمران خان کی قید کے معاملے پر بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ عمران خان آج جیل میں ہیں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ ہمیشہ جیل میں ہی رہیں گے۔ انہوں نے اپنے والد آصف علی زرداری کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وہ ’14‘ سال تک جیل میں رہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست جاری رکھی اور ضد نہ چھوڑی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان پھر جیل میں ہی رہیں گے اور آصف علی زرداری کا جیل میں رہنے کا ریکارڈ بھی توڑ دیں گے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کا بھی کردار ہونا چاہیے، اور پیپلز پارٹی اس کردار کو خوش آمدید کہے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات زیر گردش ہیں اور گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے امکانات پر بحث جاری رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ ایسے اقدامات آخری آپشن کے طور پر ہی اختیار کیے جانے چاہئیں، جبکہ اپوزیشن اور حکومت کے مابین مذاکرات کا عمل بھی وقتاً فوقتاً تعطل کا شکار رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert