پاکستان فیڈریشن ہے بادشاہت نہیں، کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و جمہوریت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے: علامہ راجہ ناصر عباس کا سینیٹ میں خطاب
دو تہائی اکثریت والی حکومت کا مینڈیٹ چھینا گیا، اگر نظام ناکام ہوا تو ایمرجنسی صرف خیبر پختونخوا میں کیوں نافذ کی گئی؟ سینیٹ سے خطاب

وزیراعلیٰ اور منتخب اراکین کو اٹھا کر پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی، مشرف ڈکٹیٹر تھا مگر وہ بھی اختلاف برداشت کر لیتا تھا
جبر اور زبردستی سے امن قائم نہیں ہو سکتا، حکومت خیبر پختونخوا سے گورنر راج فوری واپس لے کر مذاکرات کی راہ اپنائے
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے، یہاں بادشاہت نہیں، پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جہاں اسلام اور جمہوریت دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ آئین پاکستان کی تمام اکائیوں کا ترجمان ہے، اس کے خلاف ترامیم کرنا اور ڈرا دھمکا کر آئینی تبدیلیاں لانا بھی غلط ہے۔ پوری دنیا کے سامنے آئین کو پامال کرکے متنازع بنا دیا گیا ہے، آئین شکنی کرکے کیا ہم پاکستان کے ساتھ وفاداری کر رہے ہیں؟ اقتدار کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، ہم اس کے مالک نہیں، آئین شکنی کرنے والے کیا اس امانت کے اہل ہیں؟ ملک میں خوف و ہراس کی فضا ہے، حکومتی وزرا لوگوں کو باہر نکلنے کے چیلنج دے رہے ہیں اور خود کو فاتح سمجھنے لگے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے بعد عوام کے خوش ہونے اور جشن منانے کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ایک سیاہ دن ہے، جمہوریت کے چیمپئن کہلانے والے لوگ جمہوری حکومت ہٹانے پر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔ 12 اکتوبر 1999 کو بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پاکستان میں احتجاج کرنے والے بہت کم لوگ تھے۔ عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈال کر انہیں جمہوریت سے مایوس نہ کیا جائے، کیونکہ ایسے اقدامات سے عوام کا پاکستان اور جمہوریت سے تعلق ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا تو عوام آگے بڑھنے کے لیے دوسرے راستے اختیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا کے حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا؟ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت کا مینڈیٹ ختم کردیا گیا۔ سیاسی مسائل پر اتفاق ہوگیا تھا، اختلاف اس بات پر ہوا کہ سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ سیاسی معاملات حل کرنے کے لیے مزید مذاکرات اور وقت دیا جاسکتا تھا۔ اگر نظام ناکام ہوچکا ہے تو پھر ایمرجنسی صرف خیبر پختونخوا میں کیوں نافذ کی گئی، پورے پاکستان میں کیوں نہیں؟ ماضی کے تجربات سے واضح ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ حالات بہتر ہونے کی ضمانت نہیں۔ عوام اور منتخب نمائندوں کی حمایت کے بغیر کوئی نظام مؤثر طریقے سے نہیں چلایا جاسکتا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی عمل اور عوامی حمایت ناگزیر ہے۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارا یقین تھا کہ مظلومیت کے باوجود عوامی جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑنا، دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان میں گلی گلی جنگ ہو، ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔ سیاسی جدوجہد کرنے والوں میں صبر، تحمل، بردباری اور برداشت ہوتی ہے، لیکن ایک طرف گورنر لوگوں کو باہر نکلنے کا چیلنج دیتے ہیں اور دوسری طرف لانگ مارچ کو بھی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کے اقدامات سے دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ، ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھا لیا گیا ہے، ایسے میں نوجوان کہاں جائیں گے؟ مشرف ڈکٹیٹر تھا، لیکن وہ اختلاف برداشت کرلیتا تھا، جبکہ آج اختلاف برداشت نہیں کیا جارہا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ بندی اور تمام طبقات کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبے فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کی بنیاد پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اسپیکر، وزیراعلیٰ اور منتخب نمائندوں کی بے توقیری پارلیمنٹ کی شدید بے حرمتی ہے۔ طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سخت جرم ہے، ظلم ہر جگہ اور ہر روپ میں قابل مذمت ہے اور مظلوم کی مدد کرنا ہمارا دینی و اخلاقی فرض ہے۔ بلاوجہ تشدد اور زیادتی نوجوان نسل کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے مطالبہ کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں فوری طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے واپس لے اور غلطی کو مسلسل آگے بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسائل حل کرے۔ جبر اور زور زبردستی سے امن قائم نہیں ہوسکتا، بلکہ اس سے بدامنی اور مایوسی مزید پھیلے گی۔ بارڈر پار پشتونوں سے رشتے داریوں اور علاقائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
