تاجروں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی، احتجاج موخر؛ شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں: وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو
اسما جتک کے والد کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ تاجر برادری معاشرے کا ایک اہم طبقہ ہے اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاجروں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں ڈپٹی کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا اور حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ اس موقع پر صدر انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ عبدالرحیم آغا نے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی کے بعد معاملات ایک نتیجے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 986 دکانداروں اور حلیم پلازہ سے متعلق مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جس کے بعد تاجروں نے اپنا احتجاج مخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میر ضیا اللہ لانگو نے امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے، کیونکہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بدامنی کے پیچھے ملک دشمن عناصر سرگرم ہیں، جو دہشت گردی کے ذریعے امن کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام اور تمام حلقوں کا مطالبہ ہے کہ قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے، اس مقصد کے لیے حکومت تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کرفیو یا آپریشن کی ضرورت ہوئی، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اسما جتک کے والد کے قتل کے حوالے سے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر واردات کے بعد اپنے گھروں میں بیٹھے نہیں رہتے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان تک پہنچنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے زیارت شہدا کمیٹی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آل پارٹیز کے رہنما بھی شریک تھے، لہذا عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے اور گمراہ کن اطلاعات سے گریز کیا جائے۔
