27 ستمبر کو طاقتور عوامی لہر اٹھی تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، منیب فاروق

دوسرا آپشن طاقت کا استعمال ’مستقل حل ‘ ہے وہ بھی کہیں نہیں گیا، تجزیہ کار کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اگر خیبرپختونخوا میں ایک طاقتور عوامی لہر اٹھتی ہے تو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن موجود ہے، تاہم یہ مستقل حل نہیں ہوگا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایک آپشن گورنر راج ہے، جبکہ دوسرا طاقت کا استعمال ہے، جسے مستقل حل سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کا آپشن بھی ختم نہیں ہوا اور حالات کے مطابق اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
گورنر راج ایک عارضی انتظام ہوسکتا ہے، لیکن طویل المدتی طور پر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال اور ممکنہ عوامی ردعمل آئندہ دنوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔


منیب فاروق کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رائے یہ ہے کہ 2022 سے لے کر آج تک موجودہ نظام نے ڈیلیور کیا ہے۔ ان کے مطابق نظام کی کارکردگی کی رفتار میں اتار چڑھاؤ ضرور آسکتا ہے، تاہم اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ مجموعی طور پر اس نظام نے نتائج دیے ہیں۔ آئندہ صورتحال کا انحصار عوامی ردعمل، سیاسی حالات اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert