27 ستمبر کو طاقتور عوامی لہر اٹھی تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، منیب فاروق
دوسرا آپشن طاقت کا استعمال ’مستقل حل ‘ ہے وہ بھی کہیں نہیں گیا، تجزیہ کار کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اگر خیبرپختونخوا میں ایک طاقتور عوامی لہر اٹھتی ہے تو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن موجود ہے، تاہم یہ مستقل حل نہیں ہوگا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایک آپشن گورنر راج ہے، جبکہ دوسرا طاقت کا استعمال ہے، جسے مستقل حل سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کا آپشن بھی ختم نہیں ہوا اور حالات کے مطابق اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
گورنر راج ایک عارضی انتظام ہوسکتا ہے، لیکن طویل المدتی طور پر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال اور ممکنہ عوامی ردعمل آئندہ دنوں میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
خبر کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اگر 27 ستمبر کو ایک طاقتور عوامی لہر اٹھتی ہے تو خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے لیکن وہ مستقل حل نہیں ہے دوسرا آپشن طاقت کا استعمال ( مستقل حل ) ہے وہ بھی کہیں نہیں گیا ! منیب فاروق ۔۔۔ pic.twitter.com/IqPBt0UCHe
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) August 14, 2026
منیب فاروق کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رائے یہ ہے کہ 2022 سے لے کر آج تک موجودہ نظام نے ڈیلیور کیا ہے۔ ان کے مطابق نظام کی کارکردگی کی رفتار میں اتار چڑھاؤ ضرور آسکتا ہے، تاہم اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ مجموعی طور پر اس نظام نے نتائج دیے ہیں۔ آئندہ صورتحال کا انحصار عوامی ردعمل، سیاسی حالات اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔
