صوبوں کے ٹکڑے کرنے کی بات، حکومت کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سربراہ جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صوبوں کے ٹکڑے کرنے کی بات، حکومت کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ محسن نقوی جس کے گھر کا نوکر ہے ، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن اور کپڑے دھوئے،یہی اس کی ڈیوٹی ہے، ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایک حصہ صوبوں کے ٹکڑے کرنے کی بات کررہا ہے، اور حکومت اور حکومتی جماعتیں خاموش ! لیکن اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟وہ جس کے گھر کا نوکر ہے ، اس کے گھر کی نوکری کرے، ان کے برتن اور کپڑے دھوئے،یہی اس کی ڈیوٹی ہے، ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
محسن نقوی جس گھر کا نوکر ہے وہاں کے برتن کپڑے دھوئے نوکری چاپلوسی کرے
ایک فرد ہوتا کون ہے جو ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کررہا ہے#TeamJuiPak #TeamJuiKp #JuiUpdates pic.twitter.com/UqtaIbFTMO— Jamiat Social Media Team (@JamiatPage_1) September 21, 2026
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں، کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں، اگر حالات نہیں ہیں، پاکستان نئے مسائل کا متحمل نہیں ہے، ہر چیز کو ایک حد تک لینا چاہییے، حد سے آگے بڑھیں گے تو اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔
ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام ،سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے، بس یہی پاکستانی ہیں، جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اسی طریقے سے ہمارے طاقتور بھی صرف اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ، یہ رویے ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں، حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیئے، اگر اسمبلیاں اور حکومتیں ہیں تو پھر ان کی رٹ بھی نظر آنی چاہیئے، ان کے اختیارات کو کوئی چیلنج نہ کرے، ورنہ پھر ہر کوئی ہر کسی کے اختیار کو چیلنج کرے گا۔
کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے، صرف یہی پاکستانی ہیں، یہ رویے ناقابل برداشت ہیں، حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان pic.twitter.com/bx7HXipqBl
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) September 21, 2026
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور بنے تو چلتی نہیں،پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو پھر یہ اقلیت کی حکومت ہو گی،ابھی اپوزیشن اس صورتحال میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لائے،صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑیں گے،ملک میں مہنگائی بڑھ گئی، عوام کے دکھ کا مداوا نہیں ہورہا، کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو اسلام آباد کنٹینرز سے بھردیا گیا،سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے اور معاہدے میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو پھر یہ اقلیت کی حکومت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ابھی اپوزیشن اس صورتحال میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لائے، ابھی اس حوالے سے کوئی سوچ نہیں نہ تحریک عدم اعتماد پر غور کیا گیا تاہم تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو ساتھ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمانی طرز حکومت کو مستحکم نہیں ہونا دیا جا رہا ہے، معیشت اور مہنگائی سے ہم سب کو مسئلہ ہے۔
نیوایجنسی کے مطابق جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں، سندھ میں جائیں تو وہاں بھی اسٹریٹ کرائمز ہیں، بلوچستان جائیں تو وہاں دن دیہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں،کوئی نظام نہیں کہ بینکوں یا شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے ایک سینیٹر کو ائیرپورٹ پر روک دیا گیا، وہ چین نہیں جاسکے، ہمارے صوبے میں وزرا کو روڈ پر روک دیا جاتا ہے۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی، عوام کے دکھ کا مداوا نہیں ہورہا، کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا تو اسلام آباد کنٹینرز سے بھردیا گیا۔انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے اور معاہدے میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کے حقوق کی بات کی،صوبے کے وسائل کے مالک صوبے کے عوام ہیں، صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑیں گے۔
