طیارہ خریدنے کی تنقید پر مریم نواز کے اعتراض پر بینظیر شاہ نے تحقیقاتی رپورٹ شیئر کردی

لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نجی دورۂ لندن کے لیے سرکاری جہاز کے استعمال پر اٹھنے والے اعتراضات کے بعد دیگر صوبوں کے پاس موجود سرکاری طیاروں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب کے پاس موجود اربوں روپے کا شاہانہ جیٹ طیارہ دیگر تمام صوبوں کی ہوا بازی کی سہولیات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ جدید اور مہنگا ہے۔
جیو نیوز کے فیکٹ چیک کے مطابق ملتان میں ایک تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور بعد ازاں صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس سرکاری طیاروں کی سہولت موجود ہے اور وہ اسے استعمال کرتے ہیں لہٰذا صرف مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنانا غیر مناسب ہے، تاہم تحقیقات اور تمام صوبوں کے ترجمانوں کے جاری کردہ حقائق ان دعوؤں سے مختلف صورتِ حال پیش کرتے ہیں۔
CM Punjab Maryam Nawaz Sharif says all chief ministers have aircrafts. What do the provinces actually have?
Geo Fact Check's Saman Amjad finds out. https://t.co/LkbB4zIFMj
— Benazir Shah (@Benazir_Shah) September 22, 2026
صحافی بینظیر شاہ کی جانب سے شیئر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس گلف اسٹریم جی 500 نامی انتہائی پرتعیش طیارہ موجود ہے جس کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ پنجاب حکومت کے پاس پہلے سے فعال ایک ہاکر طیارہ بھی موجود ہے، اس کے برعکس خیبرپختونخواہ حکومت کے پاس کوئی فکسڈ ونگ طیارہ موجود ہی نہیں بلکہ 2010ء میں کریدا گیا صرف ایک چھوٹا 3 سیٹوں والا ہیلی کاپٹر ہے، دوسری جانب بلوچستان حکومت کے پاس 2012ء کا 7 سیٹوں پر مشتمل لیئر جیٹ اور 19 سال اور 10 سال پرانے 2 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں، جبکہ سندھ حکومت 2006ء کا ایک پرانا لیئر جیٹ طیارہ اور دو ہیلی کاپٹرز استعمال کر رہی ہے جو 34 سال پرانے ہیں۔
واضح رہے کہ 9 ارب روپے کی لاگت سے خریدے گئے گلف اسٹریم جیٹ کا معاملہ لندن کے دورے سے قبل ہی متنازعہ بنا ہوا تھا، جب اس طیارے کی خرید کی خبریں سامنے آئیں تو ابتدائی طور پر پنجاب کے حکام نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اسے وزیراعلیٰ کے لیے خریدا گیا ہے، جبکہ صوبائی وزیرعظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جہاز متوقع تجارتی ایئرلائن ‘ایئر پنجاب’ کے لیے خریدا جا رہا ہے، تاہم بعد میں وزراء نے اعتراف کیا کہ یہ جیٹ وزیراعلیٰ کے سرکاری و سفری امور کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
