بلوچستان حکومت کا ایکشن، بی ایس ڈی آئی کے تمام منصوبوں میں ای بڈنگ لازمی قرار ‘دستی ٹینڈرنگ اور روایتی طریقہ کار پر پابندی، خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ
کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بی ایس ڈی آئی کے ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) حکومت بلوچستان کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت تمام منصوبوں اور اسکیموں کی خریداری کے لیے الیکٹرانک بڈنگ (ای بڈنگ) لازمی قرار دے دی ہے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق صوبائی کابینہ نے 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت تمام منصوبوں کی تخمینہ لاگت یا مجموعی لاگت سے قطع نظر، خریداری کا عمل بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بی پی پی آر اے) کے الیکٹرانک بڈنگ سسٹم کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔مراسلے میں تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی کونسلوں کے چیئرمینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت کسی بھی اسکیم یا منصوبے کے لیے دستی ٹینڈرنگ یا روایتی طریقہ خریداری اختیار نہ کیا جائے۔محکمہ کے مطابق ان ہدایات سے انحراف کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے متعلقہ حکام کو فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔یاد رہے کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر میر عبدالسلام لانگو ،چیئرمین ملک عبدالغفار مندوخیل ،جنرل سیکرٹری ملک مجیب مہترزئی نے بی ایس ڈی آئی کے ٹینڈر کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاتھا کہ بی ایس ڈی آئی کے کاموں کے ٹھیکے سرعام ہوٹلوں پر بیٹھ کرفروخت کئے جارہے ہیں جس کاوزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی،چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام نوٹس لیں ۔
