گورنر راج یا ایمرجنسی پر صوبے کی عوام کا ردعمل آئے گا، سہیل آفریدی
گورنر اور جو دو تین بے موسمی کریلے انہوں نے بٹھائے ہوئے ہیں، ان کی اتنی اوقات ہی نہیں ہے، بات ان سے آگے کی ہے، ہماری حقیقی جمہوریت کی لڑائی ان سے ہے جنہوں نے ان کو بٹھایا ہوا ہے؛ وزیراعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو

پشاور(قدرت روزنامہ)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد سہیل خان آفریدی نے واضح کیا ہے کہ اگر صوبے میں کوئی خلافِ آئین اقدام اٹھایا گیا تو شدید ردِعمل تحریکِ انصاف کی طرف سے نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کے عوام کی طرف سے آئے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک دفعہ مذاکرات ہوں یا ہزار دفعہ، میرا مؤقف روزِ اول کی طرح قائم رہے گا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور وہ اپنی جان دے کر بھی صوبے میں ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دیں گے۔
وفاقی اور صوبائی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر اور چند بے موسمی کریلوں کی اتنی اوقات نہیں ہے، اصل بات ان سے آگے کی ہے اور پی ٹی آئی کی حقیقی جمہوریت کی لڑائی ان عناصر سے ہے جنہوں نے ان کٹھ پتلیوں کو بٹھا رکھا ہے۔
گورنر اور جو دو تین اور بے موسمی کریلے انہوں نے بٹھائے ہوئے ہیں ان کی اتنی اوقات نہیں ہے بات ان سے آگے کی ہے ہماری حقیقی جمہوریت کی لڑائی ان سے ہے جنہوں نے ان کو بٹھایا ہوا ہے ! سہیل آفریدی ۔۔۔ https://t.co/JKAfqCCwVP
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) October 10, 2026
بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے رنگ روڈ جی ٹی روڈ انٹرسیکشن پر 6.2 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے 640 میٹر طویل فلائی اوور اور 4.5 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور بتایا کہ 200 ارب روپے کے پشاور بحالی پلان پر کام تیزی سے جاری ہے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا اہم ترین مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی، اجلاس میں قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان نے شرکت کی۔
بتایا جارہا ہے کہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بالقسط لانگ مارچ کے اگلے مرحلے اور وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ ایمرجنسی و گورنر راج کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
