تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرنے پر منوا لیا تھا، حکومت نے کمٹمنٹ توڑی، مولانا فضل الرحمان
خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے عوام کے حق پر شب خون مارا گیا، اس غیرآئینی اقدام کو تسلیم نہیں کرتے؛ سربراہ جے یو آئی ف کی پریس کانفرنس

پشاور(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخواہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو عوام کے حق پر ڈاکہ اور شب خون قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف عوامی، پارلیمانی اور عدالتی سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے، ہم ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے کو تیار نہیں ہیں اور اس غیر آئینی اقدام کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے، ہم عوام سے براہِ راست رابطہ کریں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت کے دوران جب یہ بات سامنے آئی کہ حکومت چاہتی ہے کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، تو اس معاملے پر پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے، دونوں فریق ایک دوسرے سے پہلے قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ میں نے دونوں طرف سے ثالثی کا اختیار مانگا اور کانفرنس کال کے ذریعے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لیا، جب سہیل آفریدی سے پوچھا کہ کیا مطالبات تسلیم ہونے پر لانگ مارچ ختم کر دیا جائے گا؟ تو وزیراعلیٰ نے اس پر رضامندی ظاہر کی، آج صبح وزیراعظم ہاؤس گئے اور آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ عمران خان سے ملاقات اور علاج کی سہولت کا وعدہ پورا کیا جائے، وزیراعظم نے کہا کابینہ کا اجلاس شام کو ہو سکتا ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ میرا ارادہ پشاور جا کر وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرنے کا تھا اور مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے دو، دو رہنماؤں کو بٹھا کر اپنی نگرانی میں معاملات طے کرنا چاہتے تھے لیکن اسی دوران کابینہ کے اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فون کر کے بتایا کہ حکومت دہشت گردی کے پیشِ نظر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے۔
سربراہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ میں نے اسحاق ڈار سے دوٹوک سوال کیا کہ اگر بات دہشت گردی کی ہے تو بلوچستان میں تو حالات خیبر پختونخواہ سے بھی زیادہ خراب ہیں، پھر وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی گئی؟ میں نے ان سے مزید کہا کہ ہم نے نائن الیون کے بعد بھی امریکی جنگ کی مخالفت کی تھی، لیکن اس طرح کے امتیازی اور جبر کے فیصلے ناقابلِ قبول ہیں۔
