سہیل آفریدی اور جنید اکبر ایک ہی دن میں معافی تلافی کی طرف آ گئے، منیب فاروق کا دعویٰ
خیبرپختونخواہ میں یہ سسٹم طویل عرصہ چلے گا، تحریک انصاف حکومت کی واپسی نظر نہیں آ رہی، 2029ء تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلے گا، 2013ء سے 2026ء تک کے احتساب کا عمل بھی شروع ہوگا؛ اینکرپرسن کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسٹیبلشمنٹ سے متعلق خبروں کے باعث معروف اینکرپرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کو مشکل حالات کا سامنا ہے اور وہ مبینہ طور پر ایک ہی دن میں معافی تلافی کی طرف آتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ علیمہ خانم کے دباؤ میں آ کر کیا۔
اس حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخواہ میں موجودہ نظامِ حکومت اور گورنر راج کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلے گا اور مجھے سال 2029ء تک صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کی واپسی کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی اور جُنید اکبر کو مُشکل حالات میں رکھا گیا ہے، وہ ایک ہی دِن میں معافی تلافی کی طرف آ گئے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ہم نے جو کیا علیمہ خانم کے پریشر میں کیا"
مُنیب فاروق https://t.co/wrxAu4Xqsd
— Zahida Rao (@zahidarao123) October 12, 2026
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اب سال 2013ء سے 2026ء تک کے دورانیے کا احتساب کا عمل بھی شروع کیا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں اٹھائے جانے والے یہ اقدامات شارٹ ٹرم نہیں بلکہ لانگ ٹرم نوعیت کے ہیں، سہیل آفریدی کو متعدد بار وارننگ دی گئی تھی، یہاں تک کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے گھر پر بھی انہیں سامنے بٹھا کر تنبیہ کی گئی تھی۔
خیبرپختونخوا میں یہ سسٹم لمبے عرصہ تک چلے گا مجھے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کی واپسی نظر نہیں آ رہی 2029 تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلے گا، 2013 سے 2026 تک احتساب کا عمل بھی شروع ہو گا، خیبرپختونخوا میں یہ عمل Short Term نہیں Long Term ہے، سینئر صحافی منیب فاروق https://t.co/lzayKwzBVg
— Ali Tanoli (@alitanoli889) October 14, 2026
منیب فاروق نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر کو بریفنگ دی گئی تھی کہ خیبر پختونخواہ حکومت کے قریب نظر آنے والے بعض افراد کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط ہیں، کے پی میں جو کچھ ہوا وہ ناگزیر تھا اور ہونا ہی تھا کیونکہ گزشتہ 7، 8 مہینے سے ڈی جی آئی ایس پی آر مسلسل دہشت گردی، سیاسی گٹھ جوڑ اور گورننس کے مسائل پر بات کر رہے تھے، جبکہ 27 ستمبر کی کال نے اس پورے عمل کو مزید تیز کر دیا تھا۔
