کراچی میں آٹے کی قیمت ملک بھر میں سب سے زیادہ، 20 کلو کا تھیلا 3 ہزار 540 روپے تک پہنچ گیا

کراچی(قدرت روزنامہ)ملک میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جہاں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 540 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق کراچی میں آٹے کا تھیلا 140 روپے مہنگا ہونے کے بعد ملک کے درج شدہ شہروں میں سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عوام کے لیے روزمرہ استعمال کی اس بنیادی ضرورت کا حصول مزید مشکل ہوگیا ہے۔
فیصل آباد میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 800 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 3 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ خضدار میں آٹے کا تھیلا 400 روپے مہنگا ہو کر 3 ہزار 400 روپے کا ہوگیا، جبکہ لاڑکانہ میں 300 روپے اضافے کے بعد قیمت 3 ہزار 200 روپے ریکارڈ کی گئی۔
حیدرآباد میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 280 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3 ہزار 480 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ کوئٹہ میں قیمت 190 روپے بڑھ کر 3 ہزار 220 روپے ہوگئی، جبکہ سکھر میں 140 روپے اضافے کے بعد آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 200 روپے تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق بہاولپور میں آٹے کا تھیلا 40 روپے مہنگا ہونے کے بعد 3 ہزار روپے کا ہوگیا، جبکہ سرگودھا میں قیمت 2 ہزار 933 روپے ریکارڈ کی گئی۔ ملتان میں 66 روپے اضافے کے بعد 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 933 روپے میں دستیاب ہے۔
پشاور میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار 300 روپے اور بنوں میں 3 ہزار 200 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اسلام آباد میں یہی تھیلا 3 ہزار 373 روپے جبکہ راولپنڈی میں 3 ہزار 333 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جہاں قیمت میں کوئی تبدیلی رپورٹ نہیں ہوئی۔
گوجرانوالہ میں آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے جبکہ سیالکوٹ میں 3 ہزار 133 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس لاہور درج شدہ شہروں میں سب سے کم قیمت والا شہر رہا، جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور خضدار میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 400 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ لاہور میں یہی تھیلا کراچی کے مقابلے میں 1 ہزار 240 روپے سستا ہے۔
آٹے کی قیمتوں میں مختلف شہروں کے درمیان نمایاں فرق اور متعدد علاقوں میں ہونے والے اضافے نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور عام شہریوں کی قوتِ خرید سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
